زخم دل کو تسلیاں دے دو
زخم دل کو تسلیاں دے دو
میرے پھولوں کو تتلیاں دے دو
سچ کو تم قتل کر نہ پاؤ گے
چاہے جتنی گواہیاں دے دو
چاند تارے شفق دھنک آکاش
ان دریچوں کو کنجیاں دے دو
غزلیں بے کیف ہو رہی ہیں مری
اپنے ہونٹوں کی سرخیاں دے دو
کیا کرو گے نشانیاں رکھ کر
ان ہواؤں کو چھٹیاں دے دو
ہچکیاں رات درد تنہائی
آ بھی جاؤ تسلیاں دے دو
زلف بھی ہے تمہارا ناصرؔ بھی
جو نہ حل ہوں پہیلیاں دے دو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.