اگرچہ وقت مناجات کرنے والا تھا
مرا مزاج سوالات کرنے والا تھا
مجھے سلیقہ نہ تھا روشنی سے ملنے کا
میں ہجر میں گزر اوقات کرنے والا تھا
میں سامنے سے اٹھا اور لو لرزنے لگی
چراغ جیسے کوئی بات کرنے والا تھا
کھلی ہوئی تھیں بدن پر رواں رواں آنکھیں
نہ جانے کون ملاقات کرنے والا تھا
وہ میرے کعبۂ دل میں ذرا سی دیر رکا
یہ حج ادا وہ مرے ساتھ کرنے والا تھا
کہاں یہ خاک کے تودے تلے دبا ہوا جسم
کہاں میں سیر سماوات کرنے والا تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.