جب فکروں پر بادل سے منڈلاتے ہوں گے
جب فکروں پر بادل سے منڈلاتے ہوں گے
انساں گھٹ کر سائے سے رہ جاتے ہوں گے
دو دن کو گلشن پہ بہار آنے کو ہوگی
پنچھی دل میں راگ سدا کے گاتے ہوں گے
دنیا تو سیدھی ہے لیکن دنیا والے
جھوٹی سچی کہہ کے اسے بہکاتے ہوں گے
یاد آ جاتا ہوگا کوئی جب راہی کو
چلتے چلتے پاؤں وہیں رک جاتے ہوں گے
کلی کلی برہن کی چتا بن جاتی ہوگی
کالے بادل گھر کر آگے لگاتے ہوں گے
دکھ میں کیا کرتے ہوں گے دولت کے پجاری
روپ کھلونا توڑ کے من بہلاتے ہوں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.