کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے
کوئی دن کا آب و دانہ اور ہے
پھر چمن اور آشیانہ اور ہے
ہاں دل بے تاب چندے انتظار
امن و راحت کا ٹھکانہ اور ہے
شمع پھیکی رات کم محفل اداس
اب مغنی کا ترانہ اور ہے
اے جوانی تو کہانی ہو گئی
ہم نہیں وہ یا زمانہ اور ہے
جس کو جان زندگانی کہہ سکیں
وہ حیات جاودانہ اور ہے
جس کو سن کر زہرۂ سنگ آب ہو
آہ وہ غمگیں فسانہ اور ہے
وا اگر سمع رضا ہو تو کہوں
ایک پند مشفقانہ اور ہے
اتفاقی ہے یہاں کا ارتباط
سب ہیں بیگانے یگانہ اور ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.