ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
ہر تمنا دل سے رخصت ہو گئی
اب تو آ جا اب تو خلوت ہو گئی
وہ ریا جس پر تھے زاہد طعنہ زن
پہلے عادت پھر عبادت ہو گئی
جی رہا ہوں موت کی امید میں
مر ہی جاؤں گا جو صحت ہو گئی
لاکھ جھڑکو اب نہیں پھرتا ہے دل
ہو گئی اب تو محبت ہو گئی
منع شے واعظ ہے وجہ حرص شے
اب تو مے سے اور رغبت ہو گئی
یا تو مسجد رات دن یا مے کدہ
کیا سے کیا اللہ حالت ہو گئی
کر چکے رندی بس اب مجذوبؔ تم
ایک چلو میں یہ حالت ہو گئی
- کتاب : غزل اس نے چھیڑی-5 (Pg. 87)
- Author : فرحت احساس
- مطبع : ریختہ بکس ،بی۔37،سیکٹر۔1،نوئیڈا،اترپردیش۔201301 (2018)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.